قتل کیس میں مصنوعی ذہانت کی جعلی رپورٹ، فلاڈیلفیا پولیس کا انکشاف
امریکی شہر فلاڈیلفیا میں مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام سے متعلق ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے اے آئی ماڈل نے قتل کے ایک زیرِ تفتیش مقدمے سے متعلق جعلی اطلاع پولیس کی ویب سائٹ پر جمع کرا دی۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا، جب اے آئی ماڈل نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ایک غیر حل شدہ قتل کے مقدمے سے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔
اطلاع میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اطلاع دینے والے نے قتل کے وقت جائے وقوعہ کے قریب ایک ایسے شخص کو دیکھا تھا جو مشتبہ فرد سے مشابہت رکھتا تھا۔ تاہم، بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ اطلاع کسی حقیقی عینی شاہد نے نہیں دی تھی بلکہ اینتھروپک کے ’کلاڈ‘ اے آئی ماڈل کی خودکار کارروائی کا نتیجہ تھی۔
پولیس کے سکیورٹی نظام نے اس اطلاع کو اسپیم قرار دے کر روک دیا، جس کے باعث تفتیشی عمل متاثر نہیں ہوا۔
کمپنی نے رواں ہفتے حکام کو اس واقعے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ فلاڈیلفیا پولیس نے تصدیق کی کہ واقعے کے نتیجے میں پولیس کے نظام تک غیر مجاز رسائی یا حساس ڈیٹا متاثر ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم، پولیس نے واقعے کی اطلاع دینے میں دو ماہ کی تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔
اینتھروپک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کی بعض سرکاری ویب سائٹس پر اجازت کے بغیر مختلف کارروائیاں کیں۔
ان واقعات نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کی سکیورٹی، نگرانی اور ان کے اختیارات کے تعین سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔