ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کا عندیہ، حملوں کا آپشن بھی برقرار
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھنے کے اشارے ملے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کرتے ہوئے ساتھ ہی فوجی کارروائی کے امکان کو بھی برقرار رکھا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے، تاہم ان کے مطابق تہران کی جانب سے اب تک ایسی شرائط سامنے نہیں آئیں جنہیں واشنگٹن قبول کرسکے۔
گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے ہوئے تھے، جن میں قطری ثالثوں نے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کی منتقلی میں کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ایک ہفتے کے اندر جوہری مذاکرات بحال کرنے کی تجویز دی تھی، جس کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانے، تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور علاقائی جنگ بندی بحال کرنے کی شرائط پیش کی گئی تھیں۔ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکا کی ایک Remus 600 خودکار زیرِ آب گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرون جاسوسی کے لیے استعمال ہورہا تھا اور اسے انٹیلی جنس اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کے ذریعے قابو کیا گیا۔
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایرانی فوج کے حکام نے بھی موجودہ جنگ کو اہم مرحلے میں قرار دیتے ہوئے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
ادھر امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بحال کرنے کے لیے علاقائی ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اہم معاملات پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔