تازہ ترین

ایس ایم ایز اور نئے برآمد کنندگان کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے بڑا حکومتی اقدام

0

حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی برآمدات بڑھانے اور انہیں آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے 300 ارب روپے کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم مختص کر دی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اب اس اسکیم کے تحت صرف ایس ایم ایز قرض حاصل کر سکیں گے، جبکہ زرعی شعبے سے وابستہ اہل کاروبار بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سرکاری دستاویزات اور بریفنگ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت برآمدات کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم، وفاقی وزرا، گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے چھوٹے کاروباری افراد کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے طویل المدتی فنانسنگ کی سہولت کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

بریفنگ کے مطابق ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت ایس ایم ای سیکٹر اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ طویل مدتی ترقیاتی فنانسنگ کی سہولت کے لیے رواں سال 350 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایگزم بینک نے شریک کمرشل بینکوں کو نئی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم پر عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے کاروباروں کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ، نئے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی اور انہیں آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.