تازہ ترین

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے قطر کا نیا سفارتی منصوبہ زیرِ غور

0

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر ایک نئی سفارتی تجویز پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت ایران کو بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس منصوبے سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطر تہران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ان جوہری مقامات کے معائنے کی اجازت دے جہاں ایران کا افزودہ یورینیم ذخیرہ موجود ہے۔ ان مقامات میں وہ تنصیبات بھی شامل ہیں جو حالیہ بمباری سے متاثر ہوئی تھیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت ایران سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا رہا کہ وہ اپنا افزودہ یورینیم لازماً ملک سے باہر منتقل کرے، بلکہ اس کے متبادل کے طور پر دیگر تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنا بھی شامل ہے۔

اس طریقہ کار کو ’ڈاؤن بلینڈنگ‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے زیادہ افزودہ یورینیم کو کم افزودہ سطح پر لایا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کے جوہری ذخیرے سے متعلق خدشات کم کرنا اور ممکنہ سفارتی سمجھوتے کی راہ نکالنا ہے۔

قطر کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرکے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرانا بھی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے اس تجویز کو قبول کیا ہے یا اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی دینے پر کوئی حتمی اتفاق ہوا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کا انحصار متعلقہ فریقوں کی رضامندی اور آئندہ سفارتی مذاکرات پر ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.