تازہ ترین

فلسطین کے منصفانہ دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد ضروری ہے، پاکستان

0

اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد اور غزہ میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کے مطابق آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس میں فلسطین، یمن، امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعات سمیت آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق قائم ہونی چاہیے اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔

ترجمان نے غزہ میں فوری طور پر تشدد کے خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے تنازع فلسطین کا دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔

سجاد حیدر خان نے یمن اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب اور یمن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان جاری سفارتی کوششوں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کی، جس میں اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر گفتگو ہوئی۔

ترجمان نے اردن میں پیش آنے والے واقعے پر حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے علاقوں مکہ اور مدینہ کی جانب حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدس مقامات کے قریب ایسے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن سے مقدس مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور مکہ اتحاد برائے دفاع سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.