تازہ ترین

مالیاتی اور اہم تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا

0

اسلام آباد: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال سے سائبر حملوں کے خطرات میں اضافے کے پیش نظر پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے مالیاتی اداروں اور اہم قومی تنصیبات کو خبردار کرتے ہوئے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق بینکوں کے کور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، تیل و گیس کی تنصیبات، پانی کی فراہمی کے نظام، بجلی کے نیٹ ورکس، بجلی کی پیداوار و تقسیم کے نظام، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے ممکنہ سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ سائبر حملہ آور بینکوں کے ظاہر کردہ اکاؤنٹ بیلنس میں ردوبدل کرکے صارفین میں خوف و ہراس پیدا کر سکتے ہیں۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ بینکوں کے ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئیز)، ادائیگیوں کے نظام اور صارفین کی موبائل ایپلی کیشنز بھی ممکنہ حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

ایڈوائزری میں متعلقہ اداروں کو خودکار لاگ اِن کی کوششوں، بار بار ناکام تصدیق، اسناد کے بڑے پیمانے پر استعمال، غیر معمولی اے پی آئی درخواستوں، ایپلی کیشنز کی کنفیگریشن میں تبدیلیوں اور مشکوک لین دین کے پیٹرنز کی مسلسل نگرانی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

دستاویز میں یورپ کے سپرمارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن کے باعث منسلک آپریشنل سسٹمز پر حملوں کے جسمانی اور تجارتی اثرات سامنے آئے۔ تاہم ان واقعات میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین کی ایپلی کیشنز اور کور بینکنگ ریکارڈ میں ڈیٹا کی درستگی اور سالمیت برقرار رکھنے کے لیے انٹیگریٹی چیکس کیے جائیں۔

متعلقہ اداروں کو لین دین کی آزادانہ جانچ، بوٹس کے ذریعے کی جانے والی سرگرمیوں کی نگرانی اور خودکار اے آئی سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری کا جائزہ لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.