اسلام آباد: ملک بھر میں معروف دوا ساز کمپنیوں کے نام سے جعلی فلو ویکسین کی فراہمی کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے ڈاکٹروں، فارمیسیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو مشتبہ ویکسین کے استعمال اور فروخت سے روک دیا ہے۔
ڈریپ کے مطابق مارکیٹ میں انفلو ویک ٹیٹرا اور ویکسی گرپ ٹیٹرا کے نام سے جعلی انفلوئنزا ویکسین سپلائی کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان ویکسینز کے پیکٹس پر معروف بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں ایبٹ فارما اور سنوفی ونتھراپ کے نام اور پتے درج ہیں۔
اتھارٹی نے دونوں ویکسینز کے حوالے سے پراڈکٹ الرٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سنوفی کے پاکستان میں ڈسٹری بیوٹر کی جانب سے جعلی ویکسین کی سپلائی سے متعلق اطلاع فراہم کی گئی تھی۔
ڈریپ کے مطابق ویکسی گرپ ٹیٹرا انفلوئنزا ویکسین کا بیچ نمبر Y4B34 جعلی ہے کیونکہ یہ بیچ پاکستان میں درآمد ہی نہیں کیا گیا۔ اسی طرح لاہور میں سپلائی ہونے والی انفلو ویک ٹیٹرا ویکسین کا بیچ نمبر P13 بھی جعلی قرار دیا گیا ہے۔
الرٹ میں ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مذکورہ جعلی بیچز کی ویکسین کسی مریض کو استعمال نہ کرائیں، کیونکہ ان کی تیاری، معیار اور افادیت کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ان کا استعمال انسانی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈریپ نے طبی عملے، ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز اور فارمیسیوں کو ہدایت کی ہے کہ جعلی ویکسین کی موجودگی یا فروخت سے متعلق فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ ویکسین کے ممکنہ منفی اثرات کی رپورٹ نیشنل فارماکوویجیلنس سینٹر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اتھارٹی نے صوبائی حکومتوں کو جعلی ویکسین کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیلڈ ٹیموں کو مارکیٹ میں اس کی سپلائی چین کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈریپ نے صوبائی ڈرگ حکام اور متعلقہ فیلڈ فورس کو مشتبہ ویکسین کے مذکورہ بیچز فوری طور پر ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ ان کی مزید خرید و فروخت اور استعمال کو روکا جا سکے۔