گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ غریب اور مستحق شہریوں کو بھاری قانونی اخراجات اور طویل عدالتی کارروائیوں کے بغیر آسان اور بروقت انصاف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی محتسب کے ادارے کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گورنر ہاؤس میں مختلف سرکاری محکموں کے خلاف موصول ہونے والی عوامی شکایات اور درخواستوں کی ہفتہ وار سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی بھی غریب یا بے سہارا شہری اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے اور انصاف کے حصول کے لیے اسے دربدر نہ ہونا پڑے۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو انصاف فراہم کرنا محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ریاست کی آئینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ جب عام شہری کو غیر ضروری تاخیر اور مالی بوجھ کے بغیر انصاف ملے گا تو سرکاری اداروں پر اس کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
انہوں نے صوبائی محتسب کو ہدایت کی کہ ادارے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے، عوامی شکایات کے اندراج، غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال اور بروقت فیصلوں کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے طویل قانونی پیچیدگیوں اور بھاری اخراجات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سرکاری ادارے کی کارکردگی کا اصل معیار اس کی عمارت یا انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی ہے۔ انصاف میں تاخیر غریب اور نادار افراد کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے، اس لیے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے سادہ، شفاف اور نتیجہ خیز طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کے شکایات سیل کے تحت ہونے والی ہفتہ وار سماعت ایک نیم عدالتی فورم کے طور پر کام کرتی ہے، جسے قانونی اصطلاح میں کوائزی کورٹ (Quasi Court) کہا جاتا ہے۔ اس فورم پر مختلف سرکاری محکموں کے خلاف شہریوں کی شکایات کا جائزہ لے کر متعلقہ قوانین اور ضابطوں کی روشنی میں ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔