پاکستان میں حلال مصنوعات کی برآمدات کو 40 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس مقصد کے لیے مقامی کمپنیوں کو عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے، بین الاقوامی سرٹیفکیشن حاصل کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان حلال فورم 2026 کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین اور حلال ڈیولپمنٹ کونسل کے بانی و چیف ایگزیکٹو اسد سجاد نے کراچی میں میڈیا راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی رکھنے کے باوجود 3 ہزار ارب ڈالر کی عالمی حلال معیشت میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری و نجی شعبوں اور عالمی حلال اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا مقصد پاکستان کی 40 سے 50 ارب ڈالر کی برآمدی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینا اور ایک قومی حلال نشان متعارف کرانا ہے۔
اسد سجاد کے مطابق پاکستان میں حلال مصنوعات تیار کرنے والی تقریباً ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کمپنیاں موجود ہیں، جنہیں مؤثر انداز میں متحرک کرکے عالمی منڈی میں ملکی برآمدات بڑھائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان حلال فورم دسمبر 2026 میں منعقد ہوگا، جس میں 35 سے زائد ممالک کے نمائندوں، نمائش کنندگان اور بین الاقوامی خریداروں کی شرکت متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فورم میں سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن، سرمایہ کاری اور برآمدات میں سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
انٹرنیشنل حلال سرٹیفکیشن کے چیف ایگزیکٹو مفتی ذیشان عبدالعزیز نے کہا کہ پاکستان کی ایک ہزار سے زائد مقامی کمپنیاں بین الاقوامی حلال سرٹیفکیشن حاصل کرچکی ہیں، تاہم برآمدات بڑھانے کی راہ میں ضابطہ جاتی رکاوٹیں، لیبارٹری ٹیسٹنگ کی محدود سہولتیں، سرٹیفکیشن کے مسائل، جدت کی کمی اور کمزور مارکیٹنگ و برانڈنگ اہم چیلنجز ہیں۔
ان کے مطابق پاکستانی برآمد کنندگان وسطی ایشیا، افریقی ممالک اور مشرقی یورپ جیسی غیر روایتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے حوالے سے مطلوبہ دلچسپی نہیں دکھا رہے، جبکہ کئی دوسرے ممالک طویل عرصے سے حلال مصنوعات کی عالمی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مفتی ذیشان عبدالعزیز نے کہا کہ پاکستان کی حلال برآمدات زیادہ تر تازہ اور ٹھنڈے گوشت تک محدود ہیں، حالانکہ حلال کا تصور اب صرف خوراک تک محدود نہیں رہا بلکہ ادویات، کاسمیٹکس، لاجسٹکس، باحیا فیشن اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل حلال سرٹیفکیشن کی عالمی منظوری خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں تسلیم شدہ ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔