اسرائیلی اپوزیشن رہنما کا عرب جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد بنانے پر زور
تل ابیب: اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے جاری سیاسی مشاورت کے دوران بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عرب قیادت والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کریں، کیونکہ ان جماعتوں کی 19 پارلیمانی نشستوں کو نظرانداز کرنا جمہوری نمائندگی کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
ایک رائے پر مبنی مضمون میں یائر گولان نے کہا کہ اسرائیل کے تمام شہریوں کے ووٹ کی اہمیت یکساں ہے اور کسی بھی شہری کے پس منظر یا شناخت کی بنیاد پر اس کے انتخاب کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے کہ سیاسی رہنما ہر شہری کے انتخاب کا احترام کریں۔ ان کے مطابق اگر کسی ووٹر کو اس کی شناخت یا نام کی بنیاد پر مسترد کیا جائے تو جمہوریت کے دفاع کا دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے۔
یائر گولان اس وقت یہودی قیادت والی اپوزیشن جماعتوں میں واحد رہنما ہیں جو علانیہ عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کے ساتھ تعاون کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان دونوں جماعتوں نے انتخابات میں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جس کے باعث حکومت سازی کے مذاکرات میں ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
تاہم اپوزیشن کی کئی اہم شخصیات نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ ان میں یاشر جماعت کے گادی آئزن کوٹ، بینیٹ جماعت کے نفتالی بینیٹ اور اسرائیل بیتینو کے آویگدور لیبرمین شامل ہیں۔
اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کا عمل پیچیدہ ہوگیا ہے، کیونکہ نہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اتحاد کو اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل ہوسکیں۔
ایسی صورتحال میں عرب قیادت والی جماعتوں کی پارلیمانی نشستیں آئندہ حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تاہم اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ان جماعتوں کے ساتھ تعاون کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔