اسلام آباد: 4 اکتوبر کے احتجاج اور خیبرپختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات کے باعث سیاسی کشیدگی کے درمیان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا امکان مسترد نہیں کیا، تاہم ملاقات کے مقام سے متعلق اپنی شرط واضح کردی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ ملک میں کہیں بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم وزیراعظم ہاؤس، وزیراعظم کے دفتر یا اسپیکر کے چیمبر میں ملاقات نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں کہیں بھی، حتیٰ کہ کسی درخت کے نیچے بھی بیٹھنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما کے گھر جانے میں انہیں اعتراض نہیں، تاہم وزیراعظم ہاؤس یا اسپیکر کے گھر نہیں جائیں گے۔
محمود خان اچکزئی کا یہ بیان وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کی جانب سے انہیں اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی دعوت کے بعد سامنے آیا۔
اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم سے کسی بھی ممکنہ ملاقات سے قبل جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی شرط بھی عائد کی۔
دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 4 اکتوبر کے اسلام آباد احتجاج کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان، جس کی سربراہی محمود خان اچکزئی کررہے ہیں اور جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے، احتجاج میں شرکت کا اعلان کرچکی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مجوزہ احتجاج کے معاملے پر پس پردہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج مؤخر نہ کیا گیا تو اسلام آباد میں مظاہرین کے داخلے کو روکنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو بھی برقرار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت کررہی ہے اور کسی بھی اقدام کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے ترقی، انسداد دہشتگردی اور عوامی فلاح کے بجائے اسلام آباد مارچ پر زیادہ توجہ مرکوز کررکھی ہے۔