تازہ ترین

ایرانی عوام کی ثابت قدمی نے دنیا کو حیران کردیا، پیوٹن کا تہران سے اظہارِ یکجہتی

0

ماسکو میں والڈائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے عالمی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اس وقت ایک خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

روسی صدر نے ایرانی عوام کی ہمت اور ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے تہران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور امریکی حملوں کے مقابل ایرانی عوام کے ردعمل کو سراہا۔

پیوٹن نے کہا کہ مغربی پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق روس کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ڈیزل موجود ہے، تاہم پابندیوں اور دیگر رکاوٹوں کے باعث اضافی ایندھن عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچایا جائے گا۔

یوکرین کی جانب سے روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں روس کی مجموعی ملکی پیداوار کو تقریباً ایک فیصد نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ان حملوں کے جواب میں یوکرین کی معیشت سے متعلق اہم اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

روسی صدر نے خبردار کیا کہ بڑی طاقتوں کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ایسے ہتھیار کبھی استعمال نہیں ہوں گے، اس لیے عالمی برادری کو کسی بھی خطرناک انجام سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پیوٹن نے مزید کہا کہ اگر روسی علاقے خصوصاً کیلیننگراڈ کو براہ راست خطرہ لاحق ہوا تو روس اپنے پاس موجود تمام اقسام کے ہتھیاروں کے استعمال پر غور کرے گا، جن میں جوہری ہتھیار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس یورپی ممالک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم کسی براہ راست حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.