تازہ ترین

بلوچستان حکومت کی یقین دہانی پر کسان اتحاد کا اسلام آباد لانگ مارچ ملتوی

0

کوئٹہ: بلوچستان میں کسانوں کے مطالبات پر حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات کے بعد مجوزہ اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنا مؤخر کر دیا گیا۔ کسان اتحاد نے صوبائی حکومت کی یقین دہانی اور موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاجی مارچ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشیر برائے امورِ داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق صوبائی وزیر علی مدد جتک کی قیادت میں سرکاری وفد نے کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد باٹھ سے ملاقات کی، جس میں رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل بھی شریک تھے۔ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے کسان رہنماؤں کو ان کے جائز تحفظات اور زرعی شعبے سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

بابر یوسفزئی نے بتایا کہ کسان اتحاد کے صدر خالد باٹھ نے حکومت کی درخواست اور یقین دہانی قبول کرتے ہوئے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد نے ملک کی موجودہ صورتحال اور امن و امان کے خدشات کے پیش نظر احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشیر داخلہ کے مطابق بلوچستان حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات پیش رفت کی جانب اہم قدم ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کاشتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

اس سے قبل خالد باٹھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے استعفے سمیت کاشتکاروں اور زمینداروں کے دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے کسانوں کے قافلے مارچ میں شرکت کے لیے تیار تھے تاکہ زرعی شعبے کی صورتحال اور کسانوں کو درپیش مسائل پر آواز اٹھائی جا سکے۔ خالد باٹھ کا کہنا تھا کہ کسان اپنے حقوق کے لیے ملک گیر مہم جاری رکھیں گے اور زرعی بحران کے حل تک ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

کسان رہنما نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زرعی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان ملک میں خوراک کی فراہمی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، تاہم گزشتہ تین برس کے دوران غلط پالیسیوں کے باعث زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے کم آمدن والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور زرعی شعبے کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

خالد باٹھ نے کہا کہ کسان کی خوشحالی بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کی ضامن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی کسانوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ نہیں اور بعض حکومتی فیصلے زرعی شعبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں زراعت کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.