اسٹاک ایکسچینج شدید مندی سے دوچار، انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے دوران شدید مندی دیکھی گئی، جہاں انڈیکس میں 1100 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوپہر 1 بج کر 50 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 171,068.32 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ کاروباری روز کے مقابلے میں 1,164.19 پوائنٹس یعنی 0.68 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔
لکی سیمنٹ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک، یونائیٹڈ بینک، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم، پاکستان اسٹیٹ آئل اور سوئی سدرن گیس کمپنی جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم حصص منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
دوسری جانب اہم پیشرفت کے طور پر وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب آئی ایم ایف کا مشن پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی یعنی ای ایف ایف اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی یعنی آایس ایف کے تحت آئندہ جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے پاکستان کی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کی مسلسل معاونت پر ادارے کا شکریہ ادا کیا اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر کامیابی سے عمل درآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
کرسٹالینا جارجیوا نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے پاکستان میں جاری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔
ان کے مطابق اصلاحات پر مضبوط عمل درآمد سے معاشی استحکام برقرار رکھنے، اعتماد بحال کرنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی رہی تھی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 830.43 پوائنٹس یعنی 0.48 فیصد اضافے کے بعد 172,232.51 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بدھ کو مارکیٹ میں تیزی کی وجوہات میں امریکا اور ایران کے درمیان تعمیری مذاکرات، آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن کی پاکستان آمد اور ریفائنری کمپنیوں کے حصص میں نمایاں خریداری شامل تھیں۔
ٹوکیو کی مارکیٹ 3 روزہ تعطیلات کے بعد دوبارہ کھلی تو جاپان کے 10 سالہ سرکاری بانڈز کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔