خیبرپختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملے جاری رہیں گے اور ملکی خودمختاری کو چیلنج کیا جاتا رہے گا، اس وقت تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان معمول کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
اپنے دفتر سے جاری بیان میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے پاکستان کے جائز سیکیورٹی تحفظات دور کرنا اور افغان حکام کی جانب سے عملی تعاون یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کابل انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے مسلح گروہوں کے استعمال سے روکے جو پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے، تاہم صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے گشت میں اضافے اور پولیس و سیکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر رابطہ کاری نے صورتحال بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مشیر اطلاعات نے امن و امان کے قیام میں عوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسلز (ARDCs) مقامی سطح پر مشاورت کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہیں۔ ان کونسلز کے ذریعے مقامی آبادی کے مسائل اور معلومات سامنے لانے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں میں بھی سہولت مل رہی ہے۔
ثمر ہارون بلور نے انکشاف کیا کہ نجی سیکیورٹی ڈیوٹیوں پر تعینات تقریباً 10 ہزار اہلکاروں میں سے 5 ہزار سے 6 ہزار کو واپس پولیس لائنز طلب کرلیا گیا ہے تاکہ انہیں دوبارہ ضروری ذمہ داریوں پر تعینات کیا جاسکے۔ ان کے مطابق باقی اہلکاروں کے معاملات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس دوران سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو درپیش حقیقی سیکیورٹی خطرات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
صحت کارڈ پروگرام کو کم آمدنی اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس میں مبینہ بدعنوانی، مخصوص مفادات رکھنے والے عناصر کے اثر و رسوخ اور خریداری کے عمل میں مبینہ پسند و ناپسند پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیشن اور غیر قانونی مالی فوائد سے متعلق الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں شفافیت، احتساب اور میرٹ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
سرکاری اراضی کے معاملے پر مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ قومی املاک کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی فرد یا تنظیم کو سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف بلاامتیاز اور غیر جانبدارانہ کارروائی ہونی چاہیے۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران جمع ہونے والے مسائل کو 13 دن یا چند ہفتوں میں حل کرنے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں، تاہم حکومت اصلاحات متعارف کرانے اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان سہولتوں تک رسائی بڑھانا انہیں عسکریت پسندی کی جانب راغب ہونے سے روکنے کے لیے اہم ہے۔
مشیر گورنر نے مزید تصدیق کی کہ متعلقہ علاقوں میں سرکاری عمارتوں اور دفاتر پر پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔