چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ حکومت سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے مرحلہ وار اقدامات شروع کردیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر سپر ٹیکس کی شرح میں دو فیصد کمی کی گئی ہے۔
کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا کے صنعت کاروں کو ٹیکس سے متعلق درپیش مسائل کے حل کے لیے کاٹی میں ایف بی آر کا دفتر قائم کیا جائے گا۔ خام مال کی درآمد کے عمل میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر ہیلپ ڈیسک کا دائرہ کراچی سے بڑھا کر سکھر تک وسیع کیا جائے گا۔ لیدر انڈسٹری کو بارڈر ٹریڈ میں درپیش مشکلات کے حل کے لیے بھی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
راشد محمود لنگڑیال کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مؤثر بنانے کے لیے فارما انڈسٹری میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ماڈل پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو بہتر بنانا اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے صنعت کاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس چوری میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کے لیے ادارے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے اجلاس کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں کے مسائل بھی سنے اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے معیشت کی بہتری اور صنعت کاروں کے مسائل کے حل کے لیے چیئرمین ایف بی آر کو ہر ماہ کراچی آنے کی تاکید کی ہے، جس پر وہ وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی کابینہ اور وزرا بھی چیئرمین ایف بی آر کی طرح کراچی میں وقت دیں تو ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر کی مثبت پالیسیوں، فیس لیس نظام اور ڈیجیٹلائزیشن پر مؤثر عمل درآمد سے ٹیکس نیٹ اور وصولیوں میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ حکومت کا 100 ارب روپے کا برآمدی ہدف بھی جلد حاصل کیا جاسکتا ہے۔
شیخ عمر ریحان نے خام مال کی درآمد سے متعلق ٹیکس مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعت کاروں کو ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے اور برآمدی صنعتوں سمیت باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے اداروں کے اربوں روپے ایف بی آر کے پاس طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کی رقوم صنعت کاروں کا ورکنگ کیپیٹل ہیں، اس لیے ان کی ادائیگی کے لیے مقررہ مدت پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ ان کے مطابق حقیقی اور تصدیق شدہ ریفنڈز کی خودکار ادائیگی کا نظام مؤثر بنانے کے ساتھ غیر ضروری آڈٹ اور دستاویزی کارروائی کے نام پر جائز ریفنڈز روکنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے۔