تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف 10 نومبر سے ترکیہ کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

0

وزیراعظم شہباز شریف 10 نومبر سے ترکیہ کا تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے، جس کے دوران وہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس COP-31 میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی مالی معاونت اور صاف توانائی کے فروغ سمیت اہم عالمی امور زیر بحث آئیں گے۔

ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والی COP-31 کانفرنس 9 سے 20 نومبر تک جاری رہے گی، جبکہ عالمی رہنماؤں کا اجلاس 11 اور 12 نومبر کو شیڈول ہے۔ اس اہم عالمی فورم میں مختلف ممالک کے سربراہان، حکومتی نمائندے، ماحولیاتی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے عہدیدار شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مؤثر بنانا اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کرنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس کے دوران پاکستان کا مؤقف عالمی رہنماؤں کے سامنے پیش کریں گے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے، جس کے باعث موسمیاتی موافقت، مالی معاونت اور قدرتی آفات سے تحفظ کے اقدامات ملک کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور ترکیہ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، باہمی تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی شراکت داری اور صنعتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے اور کاروباری روابط کو وسعت دینے کے امکانات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ وزیراعظم کی دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان ملاقاتوں کا حتمی شیڈول سامنے آنا باقی ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی قریبی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی امور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.