تازہ ترین

روس مذاکرات کیلئے تیار، مگر جنگ روکنے سے انکار، سرگئی لاوروف

0

نیویارک: روس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران فوجی کارروائیاں روکنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ ماسکو عارضی جنگ بندی کے بجائے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو تنازع کا مستقل اور پائیدار خاتمہ کرے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کے کسی بھی مرحلے پر اپنی فوجی کارروائیاں معطل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس طویل مدتی اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، لیکن محض عارضی جنگ بندی کو مسئلے کا مستقل حل نہیں سمجھتا۔

روسی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ یورپی ممالک جنگ میں وقفہ چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کو دوبارہ مسلح کرنے اور اس کے فوجی ذخائر بحال کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ روسی مؤقف ہے، جس کی یورپی حکومتوں اور یوکرین کی جانب سے مختلف تشریحات سامنے آتی رہی ہیں۔

لاوروف کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے نیویارک میں ملاقات کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی، جس میں روس یوکرین جنگ اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد روبیو نے کہا کہ روس اور یوکرین نے بعض محدود نوعیت کی جنگ بندی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، تاہم روس کے مجموعی مؤقف میں فوری تبدیلی کے آثار سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل برائے سیاسی و امن سازی امور روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یوکرین جنگ ایک خطرناک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق حملوں میں شدت، شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ جبکہ علاقائی کشیدگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کے خاتمے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مختلف ممالک نے بھی فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی اور جنگ تاحال جاری ہے۔ حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین کے مؤقف میں نمایاں اختلافات برقرار ہیں، جبکہ جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے مذاکرات کے مختلف راستے زیرِ بحث ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.