اسلام آباد: خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے والدین، کمیونٹی نمائندوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نومبر کی قومی انسداد پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ ہر بچے کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنایا جاسکے۔
اپنے پیغام میں آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں اور یہ بیماری عمر بھر کی معذوری حتیٰ کہ مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ویکسین کے ذریعے بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی انسداد پولیو مہم 2 نومبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران ملک کے 97 منتخب اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مہم میں 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے۔
خاتونِ اول نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کمیونٹی تک رسائی اور تمام بچوں کو ویکسین فراہم کرنے میں پولیو ورکرز کی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی انسداد پولیو پروگرام کے آغاز کے بعد ملک میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم 2026 میں اب تک سات کیسز رپورٹ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے پاکستان کو جون 2027 تک پولیو سے پاک ملک بنانے کے ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی معمول کی حفاظتی ویکسینیشن بھی مقررہ وقت پر مکمل کرائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔
خاتونِ اول نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک پہنچ کر بچوں کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے ان کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے تک یہ جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔