تازہ ترین

یوکرین جنگ پر مذاکرات کے لیے پیوٹن کی ٹرمپ اور شی جن پنگ سے ملاقات کی تجویز

0

روس، امریکا اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کے تناظر میں تینوں ممالک کے سربراہان کی اگلے ماہ چین میں ممکنہ ملاقات زیرِ غور ہے، تاہم کریملن نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی ملاقات کے ایجنڈے پر اتفاق ہوسکا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو اس امکان پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ممکنہ ملاقات کا معاملہ حکام کے درمیان زیرِ بحث آیا ہے۔ یہ پیش رفت ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پی ای سی) کے آئندہ اجلاس کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن نے ٹرمپ اور شی جن پنگ سے ملاقات کی تجویز دی تھی، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ پیسکوف نے تصدیق کی کہ اس خیال پر گفتگو ہوئی، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کوئی باضابطہ تجویز پیش نہیں کی گئی۔

کریملن ترجمان کے مطابق تینوں رہنماؤں کی اجلاس میں شرکت کا امکان موجود ہے، لیکن ملاقات کی نوعیت، ایجنڈے اور موضوعات پر تاحال اتفاق نہیں ہوا۔ اس لیے مجوزہ ملاقات کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے مجوزہ ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یوکرین، روس اور امریکا کے نمائندے اکٹھے بیٹھیں تو جنگ جلد ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس ان کا کہنا تھا کہ روس، چین اور امریکا کے درمیان ملاقات پیوٹن کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔

دوسری جانب پیسکوف نے کہا کہ واشنگٹن یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور روس امریکی کوششوں کو سراہتا ہے۔ تاہم ماسکو اور کیف کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔

کریملن ترجمان نے زور دیا کہ کسی بھی حتمی امن معاہدے میں یوکرین کی شرکت ضروری ہوگی۔ ان کے مطابق صرف بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات سے امن معاہدہ مکمل نہیں ہوسکتا، بلکہ کیف میں بھی ایسے فریق کی موجودگی ضروری ہے جو معاہدے کی ذمہ داری قبول کرسکے۔

روس اور یوکرین کے درمیان امریکا کی ثالثی میں آخری امن مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے منعقد ہوئے۔ دونوں ممالک اب تک ممکنہ امن شرائط پر اختلافات ختم نہیں کرسکے، جبکہ اگلے ماہ تینوں رہنماؤں کی ملاقات کا امکان بھی غیر یقینی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.