وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے ذہنی صحت کے عالمی دن پر اپنے پیغامات میں ذہنی امراض سے متعلق سماجی بدنامی اور امتیازی رویوں کے خاتمے، بروقت تشخیص و علاج اور معیاری طبی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ذہنی صحت کے بغیر جسمانی صحت کا تصور نامکمل ہے، جبکہ ذہنی امراض کے شکار افراد کے تجربات اور ماہرین کی آرا کو متعلقہ پالیسیوں، خدمات اور فیصلوں میں شامل کرنا مؤثر حکمت عملی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی امراض سے متعلق امتیازی رویوں اور علاج کے حصول میں ہچکچاہٹ ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت وزارتِ قومی صحت کے ذریعے پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035 پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد زیادہ قابلِ رسائی، منصفانہ اور حقوق پر مبنی نظامِ نگہداشت تشکیل دینا ہے۔
ان کے مطابق حکومت ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت مراکز، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پلیٹ فارمز سے مربوط کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے نوجوانوں کی ذہنی نشوونما اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ان کے مسائل کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر سمجھنے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بچے، نوجوان، خواتین اور محروم طبقات سمیت ہنگامی حالات، نقل مکانی، غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ آبادی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کردار ادا کریں جہاں لوگ بلاخوف اور بلاشرمندگی ذہنی صحت پر بات کر سکیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ذہنی صحت انسانی صحت، وقار اور قومی ترقی کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسا پاکستان تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں لوگ سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر ذہنی صحت کے لیے مدد حاصل کر سکیں اور معیاری و قابلِ برداشت علاج تک رسائی رکھیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے تجربات سننا اور ان کی آرا کو پالیسی سازی اور خدمات کی فراہمی میں شامل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ذہنی صحت کی آگاہی کو عملی اقدامات میں بدلنے، کمیونٹی کی سطح پر سہولتیں مضبوط بنانے اور ذہنی صحت کو بنیادی طبی نگہداشت اور صحت کی جامع کوریج کا حصہ بنانے پر زور دیا۔
آصف علی زرداری نے بچوں، نوجوانوں، خواتین، معذور افراد اور کمزور طبقات سمیت ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کی ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے صحت کے ماہرین، خاندانوں، سول سوسائٹی اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو اہم قرار دیا۔
اس سال ذہنی صحت کے عالمی دن کا موضوع ’زندگی کے تجربات کو سنا جائے: حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘ ہے، جس کا مقصد ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے تجربات کو مؤثر پالیسیوں، بہتر خدمات اور عملی فیصلوں کا حصہ بنانا ہے۔