امریکا کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی: ایرانی آرمی چیف
ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ اس وقت ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جبکہ انہوں نے فوج کو ممکنہ نئے حملے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امیر حاتمی نے ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ میں کامیاب رہا ہے، تاہم اس کامیابی کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مخالف فریق کو نقصان پہنچا ہے، تاہم ایرانی فوج کو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ایرانی آرمی چیف نے کہا کہ ایران اپنی تجارت اور سلامتی سے متعلق ایسے حالات قبول نہیں کرے گا جن میں وہ خود تجارتی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے جبکہ دیگر طاقتیں خطے کے اہم بحری راستوں کو استعمال کرتی رہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کی خودمختاری اور عزت سے منسلک قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا کی جانب سے کسی ممکنہ نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ حملے کی صورت میں امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، سفارتی رابطوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بدستور اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔