امریکا آبنائے ہرمز کے جال میں پھنس گیا، سابق ایرانی سفارتکار
تہران: سابق ایرانی سفارتکار عباس خمیار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی معاشی اور فوجی دباؤ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا اور آبنائے ہرمز کا معاملہ واشنگٹن کے لیے ایک نئی مشکل بن گیا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس خمیار نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی معاشی اور فوجی حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہوسکا اور تہران امریکی شرائط کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
سابق سفارتکار کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم دفاعی اور سفارتی ذریعہ بن چکی ہے، جسے تہران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بطور دباؤ استعمال کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کو ایران پر دباؤ بڑھانے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا تھا، تاہم صورتحال اس کے برعکس ہوگئی اور واشنگٹن خود اس معاملے کی پیچیدگی میں پھنس گیا۔
عباس خمیار کا کہنا تھا کہ ایران امریکی دباؤ قبول کرنے کے بجائے ایسے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات چاہتا ہے جن میں دونوں فریق اپنے مؤقف اور ذمہ داریوں پر بات کریں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی بڑی کشیدگی سے عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ سابق ایرانی سفارتکار کے یہ دعوے ان کے تجزیے پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔