تازہ ترین

افغانستان کے تعلیمی نظام میں نظریاتی تبدیلیوں کا انکشاف

0

کابل: افغانستان کے تعلیمی نظام میں طالبان حکومت کے دور میں ہونے والی نظریاتی تبدیلیوں پر نئی بحث سامنے آگئی ہے، جہاں بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور مدارس کے ذریعے نئی نسل میں مخصوص نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ایک معروف آسٹریلوی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے افغان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مجموعی تعلیمی نظام میں بھی اپنی نظریاتی ترجیحات کے مطابق تبدیلیاں شروع کی ہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تعلیمی نظام بچوں کی آزادانہ فکری تربیت کے بجائے نظریاتی ہم آہنگی اور اطاعت کے فروغ کا ذریعہ بن رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب ہزاروں مدارس میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض تعلیمی نصاب میں مذہبی تعلیم کے ساتھ جہادی اور عسکری تصورات کو بھی جگہ دی جا رہی ہے۔

تجزیے کے مطابق کم عمر بچوں کی ذہنی اور فکری تربیت میں عسکری نظریات کا شامل ہونا افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق بچوں میں آزادانہ سوچ، تنقیدی شعور اور مختلف نقطہ نظر قبول کرنے کے بجائے مخصوص نظریات سے وابستگی پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹ میں طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں اور عسکری کارروائیوں کی تشہیر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے مذہبی تعلیم اور عسکریت پسندی کے درمیان فرق مزید دھندلا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور نظریاتی تعلیم کے پھیلاؤ کے باعث خطے کی سلامتی کو درپیش خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق انتہا پسندانہ نظریات کی نئی نسل میں منتقلی نہ صرف افغانستان بلکہ پڑوسی ممالک اور پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.