عباس عراقچی کی فرانس سمیت مغربی ممالک پر شدید تنقید خبر
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس سمیت مغربی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ممالک خود عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے حوالے سے متنازع پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، انہیں دوسرے ممالک کو انسانی حقوق کا درس دینے سے پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے فرانس اور بعض دیگر ممالک کے طرزِ عمل کو منافقانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک ایک جانب انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کی حمایت کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے ان ممالک کے اخلاقی مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بات کرنے والے ممالک کو پہلے اپنے اقدامات اور پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے لیے مغربی ممالک کی حمایت اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات نے ان کے اس اخلاقی مؤقف کو کمزور کردیا ہے جس کا وہ عالمی سطح پر دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو ممالک خود بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے حوالے سے متنازع پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، انہیں دوسرے ممالک کو انسانی حقوق کے بارے میں لیکچر دینے سے قبل اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں مغربی ممالک کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے واضح اور شرمناک منافقت قرار دیا۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان غزہ کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور حالیہ فوجی کشیدگی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران مسلسل امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک پر اسرائیل کی حمایت اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
فرانسیسی حکومت کی جانب سے عباس عراقچی کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔