تازہ ترین

اسرائیلی حملوں پر شام کا سخت ردعمل، مذاکرات سے پہلے جارحیت روکنے کا مطالبہ

0

دمشق-شام نے حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ براہِ راست رابطے معطل کردیئے ہیں، تاہم دمشق نے سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے سیکیورٹی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیل پر اعتماد نہیں، جبکہ اسرائیلی حملے روکنا شام کی اولین ترجیح ہے۔

خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطے 18 اگست کو ابو الظهور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے بعد روک دیے گئے۔ ان کے مطابق شام سمجھتا ہے کہ ایسے فریق کے ساتھ رابطہ ضروری ہے جو مسلسل شام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے، تاہم اگر رابطوں سے کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو تو ان کا جاری رہنا بے معنی ہوگا۔

شامی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دمشق اس وقت اسرائیل پر اعتماد نہیں کرتا، تاہم اس کے باوجود وہ سفارتی حل کے حق میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اسرائیل کے ساتھ کسی سیکیورٹی معاہدے تک پہنچنے سے قبل اسرائیلی حملوں کا خاتمہ چاہتا ہے اور اعتماد سازی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

اسرائیل نے 18 اگست کو شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الظهور ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیل کا مؤقف تھا کہ شام اس اڈے پر ترک فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت دے کر ایک موجودہ سیکیورٹی انتظام کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا، تاہم شام اور ترکیہ دونوں نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ حملے میں ایئربیس کو نقصان پہنچا، تاہم ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ملی۔

اس واقعے کے بعد شام اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بارک نے بھی حملے کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اسرائیل، شام اور ترکیہ کے درمیان ایک ایسا رابطہ نظام قائم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعے مستقبل میں غلط فہمیوں اور فوجی تصادم سے بچا جاسکے۔

اسعد الشیبانی کے مطابق شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر اس سے پہلے کافی پیش رفت ہوچکی تھی اور بیشتر نکات پر دونوں جانب سے سمجھوتے کی بنیاد بن چکی تھی۔ مجوزہ انتظام میں باہمی حملوں سے گریز، ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنا، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات اور شام کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا جیسے معاملات شامل تھے۔

شامی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی فریق نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے حقیقی آمادگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی سلامتی کے مسائل کو فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دمشق خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام اسرائیل کے سیکیورٹی خدشات کو سمجھتا ہے، لیکن اسرائیل کو بھی شام کی خودمختاری اور سیکیورٹی تحفظات کا احترام کرنا ہوگا۔ دمشق کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فضائی سرگرمیوں، حملوں اور جنوبی شام میں کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

اسعد الشیبانی نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی مذاکرات مستقبل قریب میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا بھی اسرائیل کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ واشنگٹن ایک ایسے طریقہ کار پر کام کررہا ہے جس سے شام، اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست کشیدگی کو روکا جاسکے۔

شامی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کو سفارتی راستے پر واپس آنے کے لیے ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دمشق امن، مفاہمت اور علاقائی استحکام کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم کسی بھی وسیع تر سیکیورٹی معاہدے سے پہلے شام کی بنیادی ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور اپنی خودمختاری کا احترام ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.