پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مکہ معاہدے کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے: فیدان
نیویارک: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے یمن کے موجودہ بحران کو بنیاد بنا کر اس کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔
نیویارک میں ایک مباحثے کے دوران ہاکان فیدان سے سوال کیا گیا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں کیا یمن کا بحران مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا بڑا امتحان ہے؟ اس پر انہوں نے نئے دفاعی انتظام کا موازنہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کئی دہائیوں پر محیط نیٹو کے دور میں اجتماعی دفاع کی شق کتنی مرتبہ باضابطہ طور پر فعال کی گئی۔
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کو یمن کے ایک دہائی سے جاری بحران کے تناظر میں فوری طور پر پرکھنا مناسب نہیں، کیونکہ یہ معاہدہ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ علاقائی دفاعی تعاون کو وقت کے ساتھ ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کا مقصد خطے میں تعاون اور باہمی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس کے ارکان ایک دوسرے کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس اقدام کے حوالے سے ایک واضح روڈ میپ پر کام کر رہے ہیں۔
فیدان نے بتایا کہ مستقبل میں مزید علاقائی ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، تاہم اس کے لیے پہلے معاہدے کو مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق اس تعاون پر تینوں ممالک کے درمیان گزشتہ پانچ سے چھ برس سے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری تھی۔
اس سے قبل بھی فیدان کہہ چکے ہیں کہ مکہ دفاعی اتحاد کے مستقل ڈھانچے، ہیڈکوارٹرز اور عملے کے قیام پر کام جاری ہے، جبکہ ترکیہ سعودی عرب کی ممکنہ دفاعی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔