کوہاٹ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملے کے شہداء کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے مختلف خاندانوں سے ملاقات کی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
عطاء تارڑ نے شہید پولیس اہلکار فہیم اللہ کے گھر جا کر ان کے والد اکرام اللہ سے ملاقات کی اور فاتحہ خوانی کی۔ فہیم اللہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ وفاقی وزیر نے شہید کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بعد ازاں سی ایم ایچ کوہاٹ کا دورہ کیا اور حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کی۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری رکھے گی اور وزیراعظم شہباز شریف کا بھی یہی مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور پولیسنگ، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے حوالے سے صوبائی حکومت سے سوالات کیے۔ انہوں نے صوبے میں فرانزک لیبارٹری نہ ہونے اور ترقیاتی منصوبوں و سرکاری ٹھیکوں سے متعلق بھی الزامات عائد کیے، جنہیں انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی سے جوڑا۔
اسلام آباد میں 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے حوالے سے عطاء تارڑ نے کہا کہ کسی کو دارالحکومت میں سڑکیں بند کرنے یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
کوہاٹ حملے کے حوالے سے ابتدائی طبی رپورٹ میں 21 افراد کی ہلاکت اور 103 زخمیوں کا ذکر کیا گیا تھا، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔ بعد ازاں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم حکام کے مطابق آپریشن مکمل ہونے تک ہلاکتوں کی تعداد 23، جبکہ دہشت گردوں کی ہلاکتیں 8 تک پہنچ گئیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق حملہ جمعہ کی نماز کے دوران پولیس لائنز کی مسجد کے قریب دھماکے سے شروع ہوا، جس کے بعد مسلح حملہ آوروں نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے طویل کارروائی کے بعد حملہ آوروں کو ہلاک کیا اور علاقے کو کلیئر کر دیا۔