تازہ ترین

پاکستان اور روس کا ٹیکنالوجی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

0

اسلام آباد: پاکستان اور روس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو عملی کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنے، مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے آئی ٹی کمپنیوں اور صنعتی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون سے متعلق تیسرا ویبینار وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ اسلام آباد میں وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت ہونے والے اس پروگرام میں روسی مقررین نے ماسکو سے آن لائن شرکت کی۔

ویبینار کا مرکزی موضوع ٹیکنالوجی شراکت داری، نئی منڈیوں تک رسائی اور مشترکہ حل کی تیاری تھا۔ اس میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی سروسز کی تجارت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت چھ اہم شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس شعبے میں روس کے ساتھ تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت ای پاکستان پانچ اہم اسٹریٹجک ستونوں میں شامل ہے، جبکہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ پاکستان اور روس کو روایتی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور عالمی معیار کی مصنوعات و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں، جبکہ 2030 تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنے کا ہدف ہے۔ اس مقصد کے لیے تحقیق، جدت اور صنعتی روابط کو فروغ دینے کی غرض سے سات نئے اے آئی مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے نادرا کے ڈیجیٹل شناختی نظام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا فوری ادائیگی کا نظام ’’راست‘‘ ایک سہ ماہی میں 64 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز پراسیس کرچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کی سائنسی اور انجینئرنگ بنیادیں جبکہ پاکستان کے ہنرمند افرادی وسائل اور عالمی آئی ٹی تجربات مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں باہمی فائدے کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

احسن اقبال نے دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل شراکت داری، مشترکہ منصوبوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور آزمائشی منصوبوں پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کی کامیابی کا اندازہ تجارت، سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع میں اضافے سے لگایا جائے گا۔

ویبینار میں بتایا گیا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔

روسی فیڈریشن کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ بیلا چیرکیسووا نے کلیدی خطاب میں پاکستان اور روس کے ڈیجیٹل تعاون، سرمایہ کاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی۔

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات زیادہ وسیع اور پختہ مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجارت دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کا نیا ستون بن سکتی ہے، جبکہ ماسکو میں پاکستانی مشن روسی منڈی میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ کام کرے گا۔

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل جدی نے کہا کہ کاروباری شراکت داری کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے مواقع کی نشاندہی، موزوں کمپنیوں کا انتخاب، آزمائشی منصوبے اور دونوں جانب رابطہ افسران مقرر کرنا ضروری ہے۔

ویبینار کے صنعتی اجلاسوں میں روسی سافٹ ویئر انڈسٹری کے نمائندوں اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب احمد خان سمیت مختلف ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے سافٹ ویئر انڈسٹری، سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، فن ٹیک، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

اختتامی خطاب میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکرٹری ضرار ہاشم خان نے کہا کہ ویبینار میں سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کے شعبوں میں تعاون کے ٹھوس مواقع سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت پاکستانی کمپنیوں کو روسی منڈی تک رسائی، معلومات اور ضابطہ جاتی سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی اور پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.