افغانستان میں تعلیمی بحران سنگین، 22 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم، لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر
کابل: افغانستان میں تعلیمی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور طالبان حکومت کی پابندیوں کے باعث لاکھوں افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم جاری رکھنے کے حق سے محروم ہوچکی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی، تربیت یافتہ اساتذہ کی قلت اور تعلیمی معیار میں گراوٹ نے نئی نسل کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یونیسف اور یونیسکو کی اکتوبر 2025 میں جاری کردہ مشترکہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پرائمری اسکول جانے کی عمر کے 21 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی بڑی تعداد بھی بنیادی تعلیمی مہارتیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے باعث تقریباً 22 لاکھ افغان لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہوچکی ہیں۔ افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے۔
تعلیمی بحران صرف لڑکیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ لڑکوں کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان اعلیٰ تعلیم میں لڑکوں کے داخلوں میں تقریباً 40 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ ثانوی تعلیم میں ان کے داخلوں کی شرح بھی جمود کا شکار ہے۔
رپورٹ کا ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں 10 سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے ایک سادہ عبارت پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ صرف بچوں کے اسکولوں میں داخل نہ ہونے کا نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں موجود بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ہے۔
افغانستان کے تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریباً نصف اسکولوں میں صاف پانی، صفائی کی سہولیات یا سرد موسم سے بچاؤ کے لیے حرارت کا مناسب انتظام موجود نہیں، جبکہ تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے کے باعث ایک ہزار سے زائد اسکول بند ہیں۔
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، خصوصاً خواتین اساتذہ کی تعداد میں کمی، تعلیمی نظام کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مناسب تعلیمی وسائل، نصاب سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور نگرانی کے کمزور نظام نے بھی بچوں کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کیا ہے۔
یونیسف اور یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی برقرار رہی تو 2030 تک تقریباً 40 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے موقع سے محروم ہوسکتی ہیں۔ دونوں اداروں نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے فوری طور پر کھولے جائیں اور تعلیمی شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی جائے۔
تعلیمی بحران کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل میں افغانستان کو خواتین اساتذہ، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی شدید کمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ یونیسف کی اپریل 2026 کی ایک علیحدہ تحقیق کے مطابق اگر لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک افغانستان میں 20 ہزار خواتین اساتذہ اور 5 ہزار 400 صحت کے شعبے سے وابستہ خواتین کارکنوں کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے، لیکن افغانستان میں لاکھوں بچوں اور خصوصاً لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع محدود ہونے سے ملک کی سماجی، معاشی اور انسانی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہر بچے کو معیاری اور مساوی تعلیم تک رسائی دینا ناگزیر ہے۔