سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان اسکواڈ میں چار نئے کھلاڑی شامل
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے آل راؤنڈر عامر جمال سمیت چار کھلاڑیوں کو شامل کر لیا ہے۔ نئے شامل ہونے والے تین کھلاڑی پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں، جس کے بعد ٹیم کا مجموعی حجم 16 کھلاڑیوں تک پہنچ گیا ہے۔
19 سالہ بلے باز محمد طیب عارف اور فاسٹ بولرز علی شبیر اور ثاقب خان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی اور سری لنکا کے خلاف پریکٹس میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے پر قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ علی عثمان اور عبداللہ فضل کو ابتدائی 14 رکنی اسکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔
آل راؤنڈر عامر جمال کی قومی ٹیم میں واپسی بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی نمایاں کارکردگی کے بعد ممکن ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے اب تک 9 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور 6 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔ عامر جمال نے پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون کے فائنل میں 32 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں اور 55 رنز کی اہم اننگز بھی کھیلی، جس کی بدولت مارخور آئی ٹی سلوشنز نے ٹائٹل جیتا۔ انہیں فائنل کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
انہوں نے قائداعظم ٹرافی گولڈ کے ابتدائی راؤنڈ میں لاہور وائٹس کی قیادت کرتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پہلی اننگز میں 74 اور دوسری اننگز میں 23 رنز بنائے۔ واضح رہے کہ عامر جمال کو پاکستان کے حالیہ دورہ انگلینڈ کے دوران وطن واپس بھیجے جانے والے کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی کے باعث انہیں دوبارہ قومی اسکواڈ میں جگہ مل گئی۔
19 سالہ محمد طیب عارف نے فرسٹ کلاس کرکٹ کے پہلے ہی سیزن میں متاثر کن بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے بلے باز نے کنگز مین اکیڈمی کی نمائندگی کرتے ہوئے 7 میچوں میں 66.09 کی اوسط سے 727 رنز بنائے، جن میں 3 سنچریاں بھی شامل ہیں۔
فاسٹ بولر علی شبیر نے 8 فرسٹ کلاس میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کرکے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اسلام آباد کلب میں سری لنکا کے خلاف پی سی بی پیٹرنز الیون کی جانب سے تین روزہ پریکٹس میچ میں بھی 3 وکٹیں حاصل کیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی ٹیم کے بولنگ کوچ شان ٹیٹ نوجوان فاسٹ بولر کی رفتار اور بولنگ ردھم سے متاثر ہوئے، جس کے بعد انہیں اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب ثاقب خان نے قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں کراچی بلیوز کی ٹائٹل جیتنے والی مہم کے دوران نمایاں بولنگ کی۔ انہوں نے 9 میچوں میں 20.60 کی اوسط سے 47 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ان کی بہترین انفرادی کارکردگی 34 رنز کے عوض 7 وکٹیں رہی۔ ان کی مسلسل عمدہ کارکردگی نے انہیں پہلی مرتبہ قومی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ دلائی۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ پیر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوگا، جبکہ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں۔ پاکستان اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر آخری جبکہ سری لنکا ساتویں نمبر پر ہے۔ قومی ٹیم کے لیے یہ سیریز اپنی پوزیشن بہتر بنانے اور ہوم گراؤنڈ پر مضبوط آغاز کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔
قومی اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کو ڈومیسٹک کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو قومی سطح پر مواقع دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اسکواڈ میں بھی نسبتاً کم تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے، جن میں محمد طٰہٰ، سمیر منہاس، محمد سلیمان اور آل راؤنڈر رضا اللہ نمایاں ہیں۔
رضا اللہ نے رواں سال کے آغاز میں ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو پر 4 وکٹیں حاصل کیں اور بعد ازاں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 81 رنز بنائے، جن میں 9 چھکے شامل تھے۔
سری لنکا کے خلاف سیریز میں پاکستان کے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس پیس اٹیک کی قیادت کریں گے۔ وہ اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں 110 سے زیادہ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور ان کی بولنگ اوسط 20 کے ابتدائی ہندسے میں ہے۔ اسلام آباد کلب میں قومی ٹیم کے پریکٹس سیشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عباس نے کہا کہ وہ بہترین فارم میں ہیں اور اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کھیلتے ہوئے اب تک پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز ان کے حصے میں نہیں آیا، تاہم وہ اس سیریز میں یہ سنگِ میل عبور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق ڈومیسٹک ریڈ بال اور انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں باقاعدہ شرکت ان کی مستقل مزاجی اور فارم برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ تقریباً ہر سال 20 سے 25 روز مسابقتی کرکٹ کھیلنے کا موقع حاصل کرتے ہیں۔
محمد عباس نے قومی اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی صلاحیتیں منوانے اور مستقبل میں ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے رضا اللہ کو مستقبل کا اچھا کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیکھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔
تجربہ کار فاسٹ بولر کے مطابق سیریز کے لیے قومی ٹیم کی تیاریاں اچھی رہی ہیں اور کھلاڑیوں کو پہلے ٹیسٹ سے قبل میچ پریکٹس کا موقع بھی ملا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سری لنکا کو آسان حریف نہیں سمجھنا چاہیے اور پاکستانی کھلاڑیوں کو کنڈیشنز کا جائزہ لے کر پوری سیریز میں مستقل مزاجی سے کھیلنا ہوگا۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اب تک 59 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 23 اور سری لنکا نے 17 میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 19 مقابلے ڈرا ہوئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان میں کھیلی گئی آخری ٹیسٹ سیریز 2019-20 میں ہوئی تھی، جس میں میزبان ٹیم نے ایک صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔
سری لنکن ٹیم کی قیادت اس مرتبہ کوشل مینڈس کریں گے۔ 15 رکنی اسکواڈ میں تجربہ کار بلے باز دنیش چندیمل، دھننجایا ڈی سلوا اور اسپنر پربتھ جے سوریا بھی شامل ہیں، جبکہ پاتھم نسانکا کی شمولیت کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
پی سی بی کی جانب سے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اعلان کردہ نظرثانی شدہ پاکستانی اسکواڈ میں کپتان بابر اعظم، عامر جمال، علی شبیر، عرفات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، محمد غازی غوری، محمد سلیمان، محمد طٰہٰ، محمد طیب عارف، رضا اللہ، سعد بیگ، سلمان علی آغا، سمیر منہاس، ثاقب خان اور سعود شکیل شامل ہیں۔