اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں حکومتی امور، امن و امان اور روزمرہ انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی میں رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور خالد مقبول صدیقی شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے بھی ایک، ایک نمائندہ کمیٹی کا حصہ ہوگا۔
یہ پیش رفت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج تعینات کرنے، 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دینے اور 12 اضلاع کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی انتظامیہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی اور افغان طالبان سے رابطوں سمیت مختلف معاملات پر اختلافات بڑھنے کے بعد یہ اقدامات کیے گئے۔
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بھی طلب کیا ہے، جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلوں پر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی سیکیورٹی صورتحال، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ قانونی پہلوؤں اور وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری پارلیمانی اجلاس کے ایجنڈے پر بریفنگ دیں گے۔
دانش آئی ٹی پارک کو جدید ٹیکنالوجی مرکز بنانے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے دانش آئی ٹی پارک کو عالمی معیار کا ٹیکنالوجی مرکز بنانے اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے جدید آئی ٹی نظام تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیراعظم نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منصوبے کی جامع کیس اسٹڈی تیار کرنے، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے آئی ٹی پارک کو فعال بنانے اور منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں آئی ٹی برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع نظام تشکیل دینے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کا حجم 2028 تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے پر زور دیا۔