تازہ ترین

افغانستان`نورستان میں طالبان اور فریڈم فرنٹ آمنے سامنے، متعدد چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ

0

کابل: افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں نورستان کے ضلع کامدیش اور پڑوسی صوبے کنڑ کے بعض علاقوں میں طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان فورسز نے نورستان کے ضلع کامدیش میں اس کی پوزیشنوں کو زمینی دستوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے بعد فرنٹ نے جوابی کارروائی کی۔

فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران طالبان کی متعدد چوکیاں اس کے قبضے میں آگئیں جبکہ طالبان اہلکاروں کو بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق لڑائی کامدیش کے علاوہ پڑوسی صوبے کنڑ کے ضلع ناری تک بھی پھیل گئی ہے اور مختلف علاقوں میں فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم دونوں جانب سے ہونے والے جانی نقصان اور علاقے پر مکمل کنٹرول سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

فریڈم فرنٹ نے ستمبر کے دوران کابل، سرپل، کنڑ اور دیگر علاقوں میں طالبان اہداف کے خلاف مختلف کارروائیوں کے دعوے بھی کیے ہیں۔ فرنٹ کے مطابق 23 ستمبر کو کابل بگرام شاہراہ پر طالبان کی ایک فوجی گاڑی جبکہ 24 ستمبر کو سرپل میں طالبان کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بھی گزشتہ ماہ طالبان کے خلاف متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا تھا۔ گروپ کے مطابق اگست کے دوران 14 صوبوں میں 43 کارروائیاں کی گئیں، تاہم ان کارروائیوں اور جانی نقصان سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا ذکر اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے، جس کے مطابق یکم مئی سے جولائی کے اختتام تک طالبان مخالف مسلح گروہوں نے 21 صوبوں میں 88 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.