تازہ ترین

مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے، اسحاق ڈار

0

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ معاہدے کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کے لیے تیار ہوں۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں مدد دینا ہے۔

ان کا یہ بیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان جمعے کو ہونے والے معاہدے پر دستخط کے بعد سامنے آیا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی کا نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے مطابق کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

اسحاق ڈار نے مکہ معاہدے کو تینوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ کئی سال کی مشاورت اور رابطہ کاری کے بعد طے پایا ہے۔ اس کا مقصد مشترکہ سلامتی اور امن سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ کے کسی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو ختم، تبدیل یا متاثر نہیں کرتا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے، جو ریاستوں کو انفرادی اور اجتماعی دفاع کا فطری حق دیتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی اصولوں کو تسلیم کرنے، ایک دوسرے کا احترام کرنے اور تنازعات کو مذاکرات، تعاون اور پرامن ذرائع سے حل کرنے پر آمادہ دیگر علاقائی ممالک بھی اس فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ پاکستان خطے کے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر تنازعات کے پرامن حل اور محفوظ و خوشحال مستقبل کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران دستخط کیے گئے۔ اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.