ایران میں امریکی فوج کی زمینی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، ایرانی فوج
تہران: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے کہا کہ ملک کی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ایران کی سرحدوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لائے گی۔
جنرل علی جہانشاہی نے واضح کیا کہ ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتے گا۔ ان کے مطابق اگر دشمن کی جانب سے کوئی کارروائی کی گئی تو ایرانی فوج فوری اور مؤثر جواب دے گی۔
ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر کے مطابق ملک کی سرحدوں پر سکیورٹی انتظامات مسلسل فعال ہیں اور فوجی یونٹس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی حکام ماضی میں بھی متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی سرزمین پر براہ راست زمینی کارروائی کی صورت میں امریکی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل جہانشاہی کا تازہ بیان ایران کی جانب سے امریکا کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی زمینی فوجی مداخلت کو انتہائی سنجیدگی سے لے گا۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں ایرانی اور امریکی حکام کے بیانات کو عالمی سطح پر بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔