تازہ ترین

انتہائی مطلوب دہشتگرد نور ولی محسود 2 ہزار ڈالر کے ڈرون جیمر کے ساتھ نظر آگیا

0

پاکستان کے انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر نور ولی محسود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک نئی پروپیگنڈا ویڈیو میں نظر آیا ہے، جس میں بزدل عسکریت پسند کمانڈر کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں نقل و حرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان مناظر کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیونکہ خوارج کا سربراہ افغانستان میں موجود ہے، جبکہ ویڈیو سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہا ہے۔

ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کے ساتھ ایک شخص کی پشت پر نصب پراسرار جیمر نے تاہم سب کی توجہ حاصل کرلی۔ اس سے عسکریت پسند گروپ کی تجارتی طور پر دستیاب ڈرون شکن اور مواصلاتی سگنلز کو جام کرنے والی ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

محسود کو پہاڑی علاقے میں ایک ایسے شخص کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا گیا جو چار نمایاں انٹینا سے لیس ایک بھاری بھرکم بیگ اٹھائے ہوئے تھا۔ اس آلے کی اصل کمپنی اور ماڈل کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم اس کا ڈیزائن بین الاقوامی تجارتی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے پورٹیبل ریڈیو فریکوئنسی جیمرز سے مشابہت رکھتا ہے، جن میں چین میں تیار کیے جانے والے نظام بھی شامل ہیں۔

ایکس پر اسٹریٹ کام بیورو نامی اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ چین میں تیار کردہ جیمر ہے جسے محسود کے ایک محافظ نے اٹھا رکھا تھا۔ تاہم   اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔

یہ منظر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں چھوٹے ڈرونز کا استعمال تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ نبیل نے بتایا کہ الیکٹرانک جوابی کارروائی کا سامان بین الاقوامی سطح پر حاصل کیا جاسکتا ہے، چاہے وہ مقامی طور پر دستیاب نہ ہو۔

بیگ اور انٹینا کی یہ ساخت ایک پورٹیبل ریڈیو فریکوئنسی جیمنگ نظام کی نشاندہی کرتی ہے، جو ممکنہ طور پر کواڈ کاپٹرز جیسے چھوٹے تجارتی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔

ایسے جیمرز ریڈیو فریکوئنسی سگنلز نشر کرتے ہیں جو ڈرون اور اس کے آپریٹر کے درمیان رابطے میں خلل ڈالتے ہیں۔ نظام کی نوعیت کے مطابق یہ ڈرون کے کنٹرول یا مواصلاتی فریکوئنسیز کو متاثر کرسکتے ہیں اور آپریٹر کے لیے ڈرون پر قابو برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔

بعض نظام موبائل فون اور دیگر وائرلیس مواصلات میں بھی خلل ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ایسے نظام عموماً محدود فاصلے تک مؤثر ہوتے ہیں اور بڑے یا زیادہ جدید بغیر پائلٹ طیاروں کے خلاف ان کی افادیت بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے میدانِ جنگ میں ان کی بنیادی اہمیت چھوٹے اور تجارتی طور پر دستیاب ڈرونز سے تحفظ فراہم کرنے تک محدود ہوسکتی ہے۔

ٹی ٹی پی کو یہ سامان کیسے ملا؟ یہ اب بھی سب سے بڑا جواب طلب سوال ہے۔ چینی ریڈیو فریکوئنسی جیمرز بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جبکہ آن لائن زیرِ بحث مخصوص ماڈل کی قیمت مبینہ طور پر 3 سے 4 لاکھ روپے کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑا جانے والا اسلحہ اور فوجی سامان بالآخر ٹی ٹی پی سمیت عسکریت پسند گروہوں تک پہنچ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا تھا کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد بڑی مقدار میں امریکی فوجی سازوسامان موجود رہ گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.