امریکا کا ایران پر بحری محاصرہ ختم کرنے کا عندیہ، آبنائے ہرمز کھولنے پر معاہدہ متوقع
واشنگٹن-امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق متوقع معاہدے کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ اور بحری پابندیاں ختم کر دے گا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے تحت طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو دوبارہ بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے۔
ایرانی مذاکرات کاروں کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی اجازت کا انتظار ہے، رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے ہفتے کے اختتام پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا، لیکن انھیں اب بھی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدہ ہو گیا تو ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی، اور معاہدہ ہوتے ہی امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا، تاہم امریکی اقدامات ایران کے معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔
زیرِ تشکیل معاہدہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر زیادہ کنٹرول کے ایران کے بعض مطالبات پورے کرے گا، ایسا کنٹرول جو جنگ سے پہلے ایران کے پاس نہیں تھا۔
زیرِ بحث معاہدے میں آبنائے ہرمز میں عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام قائم کرنے کی تجویز ہے، جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ اس معاہدے کے یہ نکات ہیں:
* آبنائے کے راستے اندر آنے اور خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہاز ایرانی پانیوں سے گزرنے والی شمالی گزرگاہ استعمال کریں گے۔
* آبنائے کے راستے باہر جانے اور بحیرۂ عرب میں داخل ہونے والی تمام بحری آمدورفت عمانی پانیوں سے گزرنے والی جنوبی گزرگاہ استعمال کرے گی، اور یہ عمل ایران کے ساتھ رابطے میں کیا جائے گا۔
* 60 روزہ مدت کے دوران کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
* فریقین 30 دن کے اندر آبنائے کی درمیانی گزرگاہ سے بحری سرنگیں صاف کرنے کے لیے کام کریں گے۔
* درمیانی گزرگاہ صاف ہونے کے بعد اسے اندر آنے اور باہر جانے والی بحری آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور اس کے لیے عمان اور ایران کے درمیان طے پانے والے مستقل انتظام کی شرائط لاگو ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات کے علاوہ قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے عہدیدار بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھے۔