لاہور: جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مانگی گئی 10 روزہ مہلت کے دوران پیٹرولیم لیوی میں عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کرے گی۔
لیاقت بلوچ نے پیٹرولیم لیوی کو غریب عوام پر ناجائز بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی مراعات اور سرکاری اخراجات میں کمی کرنی چاہیے۔
منصورہ میں جمعرات کو لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر بھتہ نما بوجھ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ قوم پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی مراعات کم کریں۔
اجلاس میں جماعت اسلامی کے قائم مقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکریٹری سید وقاص جعفری، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید قصوری، امیر جماعت اسلامی کے معاون خصوصی عمیر ادریس اور سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے اور وہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے، کیونکہ اس کے باعث عوام پر غیرمنصفانہ مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی اس لیوی کے خلاف ملک بھر میں مسلسل احتجاجی مہم چلا رہی ہے، جس کے تحت 510 مقامات پر سڑکیں بند کی گئیں، مختلف شہروں میں تقریباً چھ ہفتے دھرنے دیے گئے، درجنوں شہروں میں عوامی جلسے منعقد کیے گئے اور کراچی سے اسلام آباد تک ٹرین مارچ بھی شروع کیا گیا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں خاطر خواہ ریلیف دینے کی یقین دہانی اور احتجاج چند روز کے لیے روکنے کی درخواست پر جماعت اسلامی نے عارضی طور پر ٹرین مارچ معطل کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ منگل کو وزیراعظم نے ملاقات کے دوران اس معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے مزید 10 روز کی مہلت مانگی، جس پر جماعت اسلامی نے حکومت کو اپنے وعدے کی تکمیل کا آخری موقع دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی پوری قوت کے ساتھ لانگ مارچ شروع کرے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ سے قبل کوئٹہ، میرپور خاص، بہاولپور، مانسہرہ اور سرگودھا میں عوامی جلسے منعقد کیے جائیں گے، جبکہ مارچ کے انتظامات کے لیے ٹرانسپورٹ، طبی امداد، سیکیورٹی، لاجسٹکس، ساؤنڈ سسٹم اور میڈیا کے شعبوں میں الگ الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ وسطی، شمالی اور جنوبی پنجاب سمیت خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی کے صوبائی امراء کی نگرانی میں مزید کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم کی سربراہی میں قائم مرکزی کمیٹی کی معاونت کریں گی۔