تازہ ترین

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

0

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری امور میں مبینہ مداخلت کے مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث سماعت اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں ہوئی۔

استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 25 اکتوبر 2024 کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ کے قریب سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹائیں، سرکاری امور کی انجام دہی میں مداخلت کی اور پولیس اہلکاروں پر تھپڑوں اور مکوں سے حملہ کیا۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا۔

منگل کو اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتجاجاً اپنے بیانات جمع کرا رہے ہیں۔

ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایک موکل کی نمائندگی کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت جا رہی تھیں اور سماعت میں پہنچنے کی جلدی میں تھیں۔ ان کے مطابق دورہ کرنے والی کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کے نام پر پولیس نے سڑک بند کر رکھی تھی، حالانکہ ٹیم متبادل راستے سے اسٹیڈیم پہنچ چکی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں نے تسلیم کیا تھا کہ سڑک بند کرنے کے لیے مجسٹریٹ کا کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔ ایمان مزاری کے مطابق جب انہوں نے شہریوں کے آئینی حقِ نقل و حرکت کے تحت سڑک کھولنے کا مطالبہ کیا تو سادہ لباس میں موجود ایک پولیس اہلکار نے ان کی طرف لوہے کی سلاخ پھینکی، جس سے وہ زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہادی علی چٹھہ نے انہیں بچانے کے لیے مداخلت کی۔

ایمان مزاری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کی اور الزام لگایا کہ استغاثہ نے جان بوجھ کر ویڈیو شواہد سامنے نہیں لائے اور کسی آزاد یا نجی گواہ کو بھی پیش نہیں کیا۔

ہادی علی چٹھہ نے بھی اپنی اہلیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مبینہ حملے کے ردعمل میں صرف ان کے دفاع کے لیے کارروائی کی۔ ان کے مطابق میڈیکل رپورٹ بھی ان کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کیے جانے کے باوجود تفتیشی کارروائی جاری رکھی گئی اور گواہوں کے بیانات ان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے۔

دونوں ملزمان نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف مقدمات جبری گمشدگیوں سے متعلق قانونی کام اور انسانی حقوق کے معاملات میں بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرنے کی وجہ سے بنائے گئے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اڈیالہ جیل میں ٹرائل کے دوران انہیں پنجرے جیسی جگہ میں رکھا گیا اور اپنے وکلا تک رسائی سے محروم کیا گیا۔

دفاع کے دلائل سننے اور پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے سزا سنائی۔ فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا قانونی حق موجود ہے اور امکان ہے کہ ملزمان اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.