تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی اقلیتی ارکانِ قومی اسمبلی کے لیے 1.33 ارب روپے کی منظوری

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کے لیے 1 ارب 33 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کیسو مل کھیل داس نے منگل کو قومی اسمبلی کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

رکن قومی اسمبلی رمیش کی جانب سے اٹھائے گئے نکتے کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اقلیتوں کے امور صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، جس کے باعث اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز مختص کرنے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے 4 ارب روپے سے زائد جبکہ سندھ حکومت نے 2 ارب روپے سے زیادہ رقم مختص کی ہے۔ ان کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد یہ شعبہ وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے براہِ راست دائرہ اختیار میں نہیں رہا، جس کی وجہ سے وزارت کے پاس اقلیتوں سے متعلق سرگرمیوں کے لیے محدود فنڈز موجود ہیں۔

کیسو مل کھیل داس نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین ارکان کو پہلے فنڈز نہیں ملے تھے، تاہم وزیراعظم نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی کے لیے 1 ارب 33 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔

وزیر مملکت نے زور دیا کہ قومی اسمبلی کے تمام ارکان، خواہ وہ عمومی نشستوں پر منتخب ہوئے ہوں یا مخصوص نشستوں پر، عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے فنڈز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی مذہبی تقریبات کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان آنے والے زائرین کی میزبانی بھی کرتی ہے۔ انہوں نے بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے انتظامات کرتی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو عزت و احترام فراہم کرتی ہے۔

کیسو مل کھیل داس کے مطابق مذہبی آزادی اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے تہوار منانے کے مواقع فراہم کرنا پاکستان کے سماجی ڈھانچے کی اہم خصوصیات ہیں۔ انہوں نے اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقلیتوں کی مذہبی اور سماجی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.