تازہ ترین

سندھ کی تقسیم کا فیصلہ عوام کریں گے، بلاول بھٹو

0

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں مزید انتظامی اکائیاں بنانے کے معاملے پر صوبائی اسمبلی اپنا فیصلہ دے چکی ہے، اس لیے اس بحث کو اب ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف صوبے کے عوام کو حاصل ہے۔

کراچی میں ڈاکٹر کیخسرو نانابھائے اسپینسر آئی اسپتال کی توسیع کے منصوبے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور سندھ اسمبلی اس معاملے پر متعدد مرتبہ اپنا مؤقف واضح کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے منتخب نمائندے عوام کی رائے کی ترجمانی کرتے ہیں اور کسی دوسرے فریق کو سندھ کے شہروں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں۔

اٹھارویں آئینی ترمیم میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیلیوں سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایسی کسی تجویز پر بات نہیں ہوئی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بعض سیاسی نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے تقسیم اور نفرت کو فروغ دینا درست طرزِ عمل نہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر کراچی کو اس کا جائز حصہ نہ دینے کا بھی الزام عائد کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق عوامی خدمات میں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور دیگر اداروں پر زور دیا کہ وہ صوبائی دارالحکومت کی ترقی پر توجہ دیں۔

شہر کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بجلی کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی یا تو دستیاب نہیں ہوتی یا صارفین کے لیے بہت مہنگی ہے، جبکہ سندھ سمیت ملک بھر میں بجلی کا بحران عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے۔ موجودہ معاشی حالات نے شہریوں کے لیے صورتحال مزید دشوار کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپینسر آئی اسپتال کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا مقصد بجلی کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ بلاول بھٹو نے خواہش ظاہر کی کہ لیاری کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے انتظامات کیے جائیں تاکہ رہائشیوں کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جاسکے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اسپینسر آئی اسپتال کی بحالی اور عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت ایسا شعبہ ہے جہاں لوگوں کو مسلسل مدد کی ضرورت رہتی ہے، جبکہ نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی معاشی مشکلات کے پیش نظر سندھ حکومت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن شہریوں پر مالی بوجھ کم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اسپینسر آئی اسپتال کا سنگِ بنیاد 1938ء میں رکھا گیا تھا اور یہ 1940ء میں فعال ہوا۔ انہوں نے اسے کراچی کے تاریخی ورثے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے تک بند رہنے کے بعد اسپتال کی بحالی کا کام شروع کیا گیا۔

میئر کے مطابق سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت اسپتال کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا گیا ہے، جہاں مفت طبی معائنے اور او پی ڈی کی سہولت دستیاب ہے۔ اسپتال کا آپریشن تھیٹر بھی فعال کردیا گیا ہے، جبکہ ادویات اور چشمے رعایتی نرخوں پر فراہم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی رہنمائی میں اسپتال کی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات جاری رہیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.