تازہ ترین

پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس,سات گھنٹے طویل اجلاس میں پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا سامنا

0

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے سات گھنٹے طویل اجلاس میں لانگ مارچ کی حکمت عملی، پارٹی کے فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور سیاسی معاملات پر ارکان نے سوالات اٹھائے، جبکہ رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے درمیان تلخ کلامی کے بعد فیصل امین اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

ذرائع کے مطابق اختلاف اس معاملے پر سامنے آیا کہ پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو اپوزیشن لیڈر کی منظوری سے مشروط کیا جائے یا نہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے تمام اختیارات اپوزیشن لیڈر کو سونپ رکھے ہیں اور حتمی اعلامیہ ان کی منظوری کے بعد ہی جاری ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل امین گنڈاپور نے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشروط ہیں تو انہیں بھی اجلاس میں موجود ہونا چاہیے۔ اس معاملے پر تلخ کلامی کے بعد انہوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

اجلاس کے دوران ارکان نے لانگ مارچ کے لیے پلان اے، بی اور سی سے متعلق حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا شکوہ تھا کہ منصوبہ بندی کے باوجود ارکان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز سمیت سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا گیا، جبکہ نور الحق قادری نے بارہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔

دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے سے متعلق خبروں کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اہم فیصلے عمران خان کی ہدایات کے مطابق کیے جاتے ہیں اور تمام تنظیمی فورمز اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.