قومی اسمبلی کا مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف، اقوام متحدہ سے قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے منگل کو ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور شرح سود میں اضافے کے معاملے پر بھی ارکان نے اظہار خیال کیا۔
وزیر مملکت برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھا جائے۔
قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات سمیت ایسے تمام یک طرفہ اقدامات کو مسترد کیا گیا جن کے ذریعے متنازع علاقے کی حیثیت اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایوان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، زیر حراست کشمیری قیادت کو رہا کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد مبصرین کو علاقے تک رسائی دے۔
قومی اسمبلی نے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ ایوان نے کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے خراب فیڈرز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے پاور ڈویژن سردار امیر تالال گوپانگ نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے 531 فیڈرز، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 72 فیصد ہیں، لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے مطابق دیگر بعض فیڈرز پر بجلی کی بندش کی بڑی وجوہات میں تقسیمِ بجلی کے نقصانات اور بلوں کی کم وصولی شامل ہیں۔
سید امین الحق اور دیگر ارکان کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن اور لیاری جیسے علاقوں میں زیادہ لائن لاسز اور بلوں کی وصولی کے مسائل کے باعث لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں بجلی کی طلب تقریباً 3 ہزار میگاواٹ جبکہ معمول کی فراہمی تقریباً 2 ہزار 900 میگاواٹ ہے۔ 6 سے 16 اکتوبر کے دوران ایل این جی کارگو دستیاب نہ ہونے کے باعث عارضی طور پر 200 سے 300 میگاواٹ کی کمی ہوئی، جس سے بعض غیر صنعتی فیڈرز پر دو گھنٹے تک بجلی بند رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران صنعتی فیڈرز کو بجلی کی فراہمی جاری رہی اور مخصوص شکایات کی تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔
سید امین الحق نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کمپنی نے اووربلنگ کے ذریعے اربوں روپے حاصل کیے، لیکن کراچی میں بجلی کی پیداوار بہتر بنانے میں ناکام رہی اور رات کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بھجوا دیا۔
شرح سود کے معاملے پر پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ و محصولات سعد وسیم شیخ نے پالیسی ریٹ 12 فیصد کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے، معیشت کو مستحکم کرنے اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورت حال کے اثرات کم کرنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اکثریتی فیصلے سے شرح سود میں اضافہ کیا اور شرح برقرار رکھنے کی صورت میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی تھی۔
رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگلے سال تک شرح سود 7 فیصد تک لانے کا وعدہ کیا تھا، ایسے میں اسے 12 فیصد کرنے سے عوام کو کیا ریلیف ملے گا؟ انہوں نے گزشتہ چار برس میں 16 ارب روپے کے سودی ادائیگیوں کا بھی حوالہ دیا۔ جواب میں سعد وسیم شیخ نے کہا کہ حکومت شرح سود کو 22 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد تک لانے کی کوششوں کا ذکر کر چکی ہے اور 2027-28 تک پاکستان کی معیشت کو مکمل طور پر سود سے پاک بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔