اپنی سلامتی کے لیے دوسروں پر انحصار ختم کریں عمان کا خلیجی ممالک کو واضح پیغام،
مسقط: عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ ایران اور عراق سمیت خلیج کے آٹھوں ممالک کو اپنی علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنا چاہیے۔ انہوں نے خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی کے لیے ایک جامع نظام تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بدر البوسعیدی نے یہ بات پیر کو برطانیہ کی جامعہ کیمبرج کے جیرٹن کالج میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق لیکچر کے دوران کہی۔ انہوں نے خلیجی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے آٹھوں ممالک کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا اجتماع 1976 کے بعد منعقد نہیں ہوا۔
عمانی وزیر خارجہ نے تمام آٹھ ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کو جامع علاقائی سلامتی کے نظام کی بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک کو ایک دوسرے کو خارج کرنے کے بجائے مشترکہ مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بیرونی ممالک کے ساتھ شراکت داری میں بتدریج فوجی وابستگیوں کے بجائے اقتصادی تعاون کو زیادہ اہمیت دی جائے۔
بدر البوسعیدی کے مطابق خطے کی سلامتی سے متعلق منصوبے اکثر علاقائی ممالک سے باہر تیار کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعلقہ ممالک کو نظرانداز کیا جاتا ہے یا ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار سلامتی کے لیے ایسے انتظامات ضروری ہیں جن میں خطے کے تمام متعلقہ فریق شامل ہوں۔
عمانی وزیر خارجہ نے ایران کو علاقائی سلامتی کے انتظامات سے الگ رکھنے کی پالیسی کے منفی نتائج پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ممکن دکھائی دے رہا تھا، تاہم اب بات چیت کی میز پر واپسی مشکل ہوگئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایران اور امریکا دونوں کو سمجھوتے پر آمادہ ہونا ہوگا۔