تازہ ترین

اسرائیل کے متوقع نئے وزیراعظم کے امیدوار گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

0

اسرائیل کی سیاست میں گادی آئزنکوٹ ایک اہم اپوزیشن رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں، جنہیں وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے ممکنہ سیاسی حریفوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا فوجی پس منظر، قومی سلامتی سے متعلق تجربہ اور ایران و فلسطین کے بارے میں مؤقف انہیں اسرائیلی سیاست کی نمایاں شخصیات میں شامل کرتا ہے۔

آئزنکوٹ 1960ء میں اسرائیلی شہر طبریا میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اسرائیلی دفاعی افواج میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دیں۔ وہ 2015ء سے 2019ء تک اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف رہے۔ اس دوران انہیں ملک کی دفاعی حکمتِ عملی اور سکیورٹی معاملات میں اہم تجربہ حاصل ہوا۔

فوج سے سیاست میں آنے کے بعد آئزنکوٹ نے سکیورٹی امور کو اپنی سیاسی شناخت کا مرکزی حصہ بنایا۔ انہیں عموماً سخت سکیورٹی مؤقف رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے، تاہم ان کی حکمتِ عملی میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ سفارت کاری اور علاقائی حالات کو مدنظر رکھنے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

فلسطینی ریاست کے معاملے پر آئزنکوٹ کا مؤقف سخت ہے۔ وہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے کے حامی رہے ہیں اور حماس کے خلاف سخت کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے حماس کی عسکری صلاحیتوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب، مغربی کنارے کے فلسطینی مزدوروں کو اسرائیل میں کام کی اجازت دینے کے معاملے پر ان کا مؤقف نسبتاً عملی نوعیت کا قرار دیا جاتا ہے۔ اس سوچ کے تحت معاشی حالات کو بہتر بنانا سکیورٹی خطرات کم کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

ایران کے حوالے سے آئزنکوٹ کا مؤقف بھی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کو اسرائیل کی پالیسی کا بنیادی ہدف بنانے کے بجائے ایرانی جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے پر توجہ دینے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے امریکی تعاون، خفیہ کارروائیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کو اہم ذرائع تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، آئزنکوٹ کے ممکنہ اقتدار میں آنے سے ایران کے ساتھ کشیدگی یا جنگ کے خطرے میں کتنی کمی آئے گی، اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اس کا انحصار ان کی عملی پالیسی، علاقائی حالات اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے کردار پر ہوگا۔

اسرائیلی سیاست میں آئزنکوٹ کا مستقبل اپوزیشن کی سیاسی حکمتِ عملی، انتخابی نتائج اور مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد پر منحصر ہوگا۔ اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کی قیادت اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.