پشاور میں ٹریفک کے مسائل کم کرنے، شہری سہولتیں بہتر بنانے اور بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے شہر بھر میں بجلی کی تاریں مرحلہ وار زیرِ زمین منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی کام شروع کرنے پر زور دیا۔
گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے پشاور ماسٹر ڈیولپمنٹ پلان کے تحت جاری اسکیموں، ٹریفک مینجمنٹ، سڑکوں کی بحالی، انڈر پاسز کی تعمیر، پارکنگ کی سہولتوں اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں گورنر کے مشیر برائے خزانہ طارق محمود پاشا، مشیر برائے بلدیات آصف رفیق، چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کو پشاور ماسٹر پلان کے پہلے 100 اور 180 روز کے اہداف، جاری ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق رنگ روڈ کے مسنگ لنک کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی تکمیل، انڈر پاسز کی تعمیر اور بجلی کے کھمبوں، اسٹریٹ لائٹس اور کیبلنگ کا نظام بہتر بنانا ابتدائی اہداف میں شامل ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ تین انڈر پاسز مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ پشتخرہ اور جمیل چوک کے انڈر پاسز تکمیل کے قریب ہیں۔ رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ کے ساتھ بجلی کے کھمبوں، روشنی کے انتظامات، سڑکوں کی بحالی اور کیبلنگ کے کام پر بھی پیشرفت جاری ہے، جس پر 50 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق 323 کنال رقبے پر قائم نیو پشاور بس ٹرمینل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جلد فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ اجلاس میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے بعد دو روز کے اندر ملبہ ہٹانے اور خالی ہونے والی زمینوں کو سرسبز عوامی مقامات میں تبدیل کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام کو شہر بھر میں بجلی کی تاریں زیرِ زمین منتقل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شہر کی خوب صورتی میں اضافہ ہوگا اور بجلی چوری کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی روڈ کی ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ کارپٹنگ کرنے اور نہر کنارے سڑکوں کو جدید روشنیوں اور لینڈ اسکیپنگ کے ذریعے بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔