تازہ ترین

امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی گرتی ہوئی, پالیسیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات اہم سیاسی امتحان بن گئے ہیں، جہاں مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے معاملات ری پبلکن پارٹی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ انتخابی نتائج طے کریں گے کہ ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے آئندہ دو برسوں میں کانگریس کی حمایت کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر کس حد تک عمل درآمد کرسکیں گے۔

رائٹرز اور اِپسوس کے 26 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے تازہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح ایک ہفتے میں ایک فیصد پوائنٹ بڑھ کر 32 فیصد ہوگئی، جبکہ اس سے قبل یہ 31 فیصد کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔ سروے میں ایک ہزار 679 امریکی بالغ افراد کی رائے شامل تھی، جن میں ایک ہزار 280 رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔

سروے کے مطابق کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ری پبلکنز پر برتری حاصل تھی۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں 47 فیصد نے ڈیموکریٹس جبکہ 36 فیصد نے ری پبلکنز کی حمایت کی۔ غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی ترجیحات شامل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کی حمایت 50 فیصد اور ری پبلکنز کی 41 فیصد رہی۔

امریکی ووٹرز کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سب سے اہم مسائل میں شامل ہیں۔ سروے میں 73 فیصد افراد نے کہا کہ اشیائے ضروریہ اور اخراجاتِ زندگی کی صورتِ حال غلط سمت میں جا رہی ہے۔ خوراک، رہائش، صحت کی سہولتوں اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے انتخابی مہم میں معیشت کو مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اپنی معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں میں کمی کو کامیابی قرار دیتی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے باوجود عام شہریوں کو مہنگائی اور بڑھتے اخراجات سے خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا۔ ڈیموکریٹس ان مسائل کو ری پبلکن حکومت کی کارکردگی پر تنقید کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔ ان انتخابات کے نتائج کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کی سیاسی طاقت کا تعین کریں گے اور آئندہ دو برسوں کے لیے حکومتی پالیسیوں پر بھی اثرانداز ہوں گے۔

ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم تین نشستوں کا اضافہ درکار ہے، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انہیں چار نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی، وفاقی بجٹ کی منظوری اور مختلف حکومتی اقدامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں ڈیموکریٹس حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے لیے تحقیقات بھی شروع کرسکتے ہیں۔ اگر انہیں سینیٹ میں بھی اکثریت مل جاتی ہے تو اہم تقرریوں اور قانون سازی کے معاملات میں ٹرمپ انتظامیہ کو مزید سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر ری پبلکنز دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل رہے گی۔ اسی لیے یہ انتخابات صرف جماعتی مقابلہ نہیں بلکہ امریکی سیاسی نظام میں صدر اور کانگریس کے درمیان طاقت کے توازن کا بھی اہم امتحان ہیں۔

خارجہ پالیسی بھی انتخابی مہم میں اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹرمپ کی تجارتی محصولات کی پالیسیوں پر ہونے والی بحث نے ری پبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ ڈیموکریٹس ان معاملات پر حکومتی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں اور ان کے معاشی اثرات عارضی ہوں گے۔

ری پبلکنز کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں کے ساتھ عوام کے معاشی مسائل کا بھی جواب دیا جائے۔ تیل اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، اسی لیے ووٹرز کے لیے معاشی استحکام انتخابی فیصلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی امریکی وسط مدتی انتخابات اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ کانگریس میں طاقت کی تبدیلی پاکستان اور امریکا کے تعلقات، جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی، افغانستان، انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سفارت کاری پر ہونے والی بحث کو متاثر کرسکتی ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی پر صدر کے ساتھ کانگریس بھی اثرانداز ہوتی ہے، خصوصاً بجٹ، پابندیوں اور قانون سازی کے ذریعے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.