اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی حکومت سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے اب کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے مطابق کیا گیا اور دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کے باعث اس اقدام کا ٹھوس جواز موجود تھا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے سابق صوبائی حکومت پر دہشتگردوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کی قیادت نے دہشتگردوں کو واپس لا کر آباد کیا تھا۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشتگردی کے واقعات بڑھنے کے بعد ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایریا ریفارمز اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل تشکیل دی جا چکی ہے اور باصلاحیت افراد پر مشتمل انتظامی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا، تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج ہوا ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت بھی صوبے میں پولیس کی تحویل میں ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ جب صوبے میں دہشتگردی کے واقعات پیش آ رہے تھے تو سہیل آفریدی احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں ایک مقام سے گزرنے کے لیے دہشتگردوں سے محفوظ راستہ مانگا تھا۔ وفاقی وزیر کے مطابق سہیل آفریدی کو تحویل میں لیے جانے کے وقت شفیع جان اور دیگر افراد فرار ہوگئے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے احتجاج میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم خیبرپختونخوا کے عوام نے صوبائی حکومت کے خاتمے پر شکر ادا کیا۔ ان کے بقول گیلپ سروے میں بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر عوامی اطمینان ظاہر ہوا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت سے متعلق مذاکرات کا باب بند ہوچکا ہے اور اس حوالے سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔