اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریک انصاف کے چھ ارکان قومی اسمبلی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ان افراد کی موجودگی واضح کرے اور زیرِ حراست ارکان کو ایوان میں پیش کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو ایک سیاہ دن قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں معلومات فراہم کیوں نہیں کررہی اور کیا حکام اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ انہوں نے اسپیکر صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے چھ ارکان کی موجودگی بھی واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
اچکزئی نے کہا کہ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کو تحویل میں لیا گیا ہے تو بھی اسے ایوان میں پیش کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ میں موجودگی یقینی بنانا ان کا حق ہے، حکومت کی طرف سے کوئی رعایت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جمہوری اصولوں اور آئین کے منافی قانون سازی کی مزاحمت کرے گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے فرانس میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے لیکن ان پر فائرنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے پاکستانی حکومت کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کی اور برلن میں فرانسیسی مظاہرین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کا بھی ذکر کیا۔
محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے آئینی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے نزدیک غیر آئینی اقدامات جاری رہے تو عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور حقیقی جمہوری انتخابات کو اپوزیشن کے بنیادی مطالبات قرار دیا۔
دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ پارٹی کی کور کمیٹی محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اچکزئی کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا اور وہ اپوزیشن لیڈر رہیں گے۔