اسلام آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور قومی سیاسی و جمہوری قیادت صوبے کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرے۔
صنوبر انسٹیٹیوٹ کے قومی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے، اس لیے دونوں صوبوں کے معاملات کو الگ الگ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی قیادت بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے۔
لیاقت بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزرا اسد عمر، فواد چوہدری، دانیال عزیز، ندیم افضل چن اور خرم دستگیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات میں صوبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور وسائل پر ان کی ملکیت کے آئینی اصول پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ 1958 کے بعد سے پاکستان مسلسل مختلف سیاسی تجربات سے گزرتا رہا ہے، جبکہ سیاسی قیادت آئینی حدود کا خیال نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے اور بڑی تعداد خط غربت سے نیچے جا رہی ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے اپوزیشن مزید کمزور ہورہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کی جائے اور بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں سے متعلق عوامی مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔